خدا کے قریب آنا ہر مسیحی کی بنیادی آرزو ہونی چاہیے۔ بہت سے لوگ ایمان رکھتے ہیں، عبادت میں شریک ہوتے ہیں، بائبل بھی پڑھتے ہیں، مگر پھر بھی ان کے دل میں یہ احساس باقی رہتا ہے کہ خدا کے ساتھ ان کا تعلق اتنا گہرا نہیں جتنا ہونا چاہیے۔ اس کیفیت کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہی روحانی پیاس انسان کو خدا کی طرف سنجیدگی سے واپس لاتی ہے۔ مسیحی زندگی صرف ایک عقیدے کو مان لینے کا نام نہیں، بلکہ ایک زندہ خدا کے ساتھ روزانہ تعلق میں چلنے کا نام ہے۔ یہ تعلق خود بخود مضبوط نہیں ہو جاتا۔ اسے وقت، فرمانبرداری، دعا، کلام، توبہ، اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے۔
خدا کے قریب آنے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اچانک کامل ہو جائے، یا اس کی زندگی سے تمام کمزوریاں ختم ہو جائیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ روزانہ اپنے دل کو خدا کے حضور کھولے، اپنی ضرورت کو پہچانے، اور روحانی طور پر اس راستے پر چلے جس پر خدا اسے بلاتا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو خدا کے قریب آنا ایک وقتی جذبہ نہیں بلکہ ایک مسلسل روحانی سفر ہے۔ اس سفر میں کبھی خوشی ہوتی ہے، کبھی خاموشی، کبھی کشمکش، اور کبھی گہرا سکون۔ تاہم، اگر بنیاد درست ہو تو انسان رفتہ رفتہ اس قربت میں بڑھتا چلا جاتا ہے۔
یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ خدا کے قریب آنے کی ابتدا انسان کے زور سے نہیں بلکہ خدا کے فضل سے ہوتی ہے۔ مسیحی ایمان یہ سکھاتا ہے کہ خدا پہلے انسان کو بلاتا ہے، پھر اس کی طرف بڑھنے کی توفیق بھی دیتا ہے۔ یسوع مسیح کے وسیلے سے ہمیں خدا کے حضور آنے کی راہ ملی ہے۔ اسی لیے روحانی قربت کا سفر محض انسانی کوشش کا منصوبہ نہیں بلکہ فضل اور جواب دہی کے باہمی تعلق میں تشکیل پاتا ہے۔ انسان کو قدم اٹھانا ہوتا ہے، لیکن وہ خدا کی مدد کے بغیر یہ سفر طے نہیں کر سکتا۔
خدا کے قریب آنے کی ضرورت کیوں ہے؟
Why is it necessary to draw close to God?
روزمرہ زندگی انسان کو بہت آسانی سے روحانی طور پر منتشر کر دیتی ہے۔ کام، تعلیم، خاندان، ذمہ داریاں، معاشی دباؤ، ذہنی الجھنیں، اور مسلسل مصروفیت دل کو اس قدر بھر دیتی ہیں کہ خدا کے لیے جگہ کم رہ جاتی ہے۔ بعض اوقات انسان بظاہر دیندار رہتا ہے، مگر اندر سے خشک ہونے لگتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں خدا کے قریب آنے کی ضرورت ایک رسمی نصیحت نہیں بلکہ ایک روحانی ضرورت بن جاتی ہے۔
جب انسان خدا سے دور ہوتا ہے تو اس کے فیصلوں، ترجیحات، تعلقات، اور اخلاقی سمت پر اثر پڑتا ہے۔ اس کے برعکس، جب ایک ایماندار روزانہ خدا کے قریب آتا ہے، تو اس کے اندر ایک نئی حساسیت پیدا ہوتی ہے۔ وہ صرف مذہبی عادتوں کا حامل نہیں رہتا، بلکہ خدا کی حضوری میں جینے والا انسان بننے لگتا ہے۔ خدا کے قریب ہونا انسان کو سکون، حکمت، تحمل، گناہ کے خلاف قوت، اور زندگی کے دکھوں میں امید فراہم کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، خدا کی قربت مسیحی زندگی کا اضافی حصہ نہیں بلکہ اس کی بنیاد ہے۔
دعا کو روزانہ زندگی کا لازمی حصہ بنائیں
Make prayer an integral part of daily life.
دعا صرف مانگنا نہیں، رفاقت ہے
Prayer is not just asking, it is fellowship.
خدا کے قریب آنے کا سب سے پہلا اور بنیادی ذریعہ دعا ہے۔ دعا وہ دروازہ ہے جس کے ذریعے انسان خدا کے ساتھ روزانہ تعلق قائم رکھتا ہے۔ مگر اکثر دعا کو صرف ضرورت کے وقت استعمال ہونے والی چیز سمجھ لیا جاتا ہے۔ جب پریشانی آتی ہے تو دعا کی جاتی ہے، اور جب حالات بہتر ہوتے ہیں تو دعا کمزور پڑ جاتی ہے۔ ایسی دعا خدا کے ساتھ گہرے تعلق کو فروغ نہیں دیتی۔
حقیقی دعا اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ اس میں شکرگزاری ہے، اعتراف ہے، مدد کی التجا ہے، دوسروں کے لیے شفاعت ہے، اور خاموشی میں خدا کے حضور رہنا بھی شامل ہے۔ جب ایک شخص روزانہ دعا کرتا ہے تو وہ آہستہ آہستہ خدا کے ساتھ ایک زندہ تعلق میں بڑھنے لگتا ہے۔
روزانہ دعا کا عملی طریقہ
A practical way to pray daily
خدا کے قریب آنے کے لیے ضروری نہیں کہ آپ ہر روز بہت لمبی دعا کریں۔ اہم بات مستقل مزاجی ہے۔ دن کے آغاز میں چند منٹ خدا کے حضور گزارنا، رات کو دن بھر کا جائزہ لے کر دعا کرنا، اور دن کے دوران مختصر دعاؤں کے ذریعے خدا کو یاد کرنا روحانی زندگی کو گہرا بناتا ہے۔
آپ اس ترتیب کو اپنا سکتے ہیں
You can adopt this setting.
پہلے خدا کا شکر ادا کریں، پھر اپنے گناہوں کا اعتراف کریں، پھر اپنی ضرورتیں اور فکر مندی خدا کے سامنے رکھیں، اور آخر میں دوسروں کے لیے دعا کریں۔ اس سادہ طریقے میں بڑی روحانی گہرائی پیدا ہو سکتی ہے اگر اسے سچائی اور باقاعدگی سے اپنایا جائے۔
خدا کے کلام یعنی بائبل میں روزانہ وقت گزاریں
Spend time daily in God's Word, the Bible.
خدا ہمیں اپنے کلام کے ذریعے تشکیل دیتا ہے
God shapes us through His Word.
خدا کے قریب آنے کی خواہش صرف جذباتی نہیں ہونی چاہیے۔ اسے سچائی کی بنیاد بھی درکار ہوتی ہے۔ مسیحی ایمان میں بائبل وہ بنیادی ذریعہ ہے جس کے ذریعے خدا اپنے لوگوں سے بات کرتا ہے، انہیں سکھاتا ہے، اور ان کی اصلاح کرتا ہے۔ اگر دعا خدا سے بات کرنا ہے، تو بائبل خدا کی آواز سننے کا ذریعہ ہے۔
بہت سے لوگ خدا کے قریب آنا چاہتے ہیں، مگر کلام سے دور رہتے ہیں۔ یہ ایک بنیادی کمزوری ہے۔ خدا کے ساتھ گہرا تعلق جذبات کے بل پر دیر تک قائم نہیں رہ سکتا۔ اسے کلام کی غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ بائبل انسان کے ذہن کو نیا کرتی ہے، دل کو نرم کرتی ہے، گناہ کو بے نقاب کرتی ہے، اور راہنمائی فراہم کرتی ہے۔
بائبل پڑھنے کا درست انداز
The correct way to read the Bible
صرف تیزی سے ابواب ختم کرنا مقصد نہیں ہونا چاہیے۔ بہتر یہ ہے کہ کم پڑھیں مگر غور سے پڑھیں۔ ایک چھوٹا حصہ لیں، اس پر سوچیں، خود سے سوال کریں:
یہ حصہ خدا کے بارے میں کیا بتا رہا ہے؟
یہ میرے دل کے بارے میں کیا ظاہر کر رہا ہے؟
مجھے کس بات میں بدلنے کی ضرورت ہے؟
آج میں اس سچائی پر کیسے عمل کر سکتا ہوں؟
جب بائبل صرف معلومات کا ذریعہ نہ رہے بلکہ فرمانبرداری کی دعوت بن جائے، تب روحانی زندگی حقیقی طور پر بڑھنے لگتی ہے۔
روزانہ توبہ اور دل کی جانچ کا عمل اپنائیں
Adopt a process of daily repentance and heart examination.
خدا کے قریب آنے کے لیے دل کا صاف ہونا ضروری ہے
To draw close to God, a pure heart is necessary.
اکثر لوگ خدا سے قربت چاہتے ہیں مگر اپنے دل کی ان چیزوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتے جو اس قربت میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ غرور، حسد، معافی نہ دینا، پوشیدہ گناہ، روحانی سستی، دنیاوی لالچ، اور خودمرکزی سوچ انسان کو اندر سے خدا سے دور کر دیتی ہے۔ اس لیے روزانہ خدا کے قریب آنے کے لیے توبہ ایک لازمی حصہ ہے۔
توبہ صرف بڑے گناہوں کے بعد کی جانے والی چیز نہیں۔ مسیحی زندگی میں توبہ ایک روزانہ عمل ہے۔ یہ خدا کے حضور اپنی کمزوری کو تسلیم کرنا، اپنے غلط رویے کو پہچاننا، اور فضل کے ساتھ نئی راہ پر چلنے کا عزم کرنا ہے۔
اپنے دل کا جائزہ کیسے لیں؟
How to examine your heart?
دن کے اختتام پر چند منٹ نکال کر خود سے سوال کریں
آج میں نے کہاں خدا کی مرضی سے ہٹ کر سوچا یا عمل کیا؟
کہاں میں نے خود کو دوسروں سے بڑا سمجھا؟
کہاں میرا ردعمل محبت سے خالی تھا؟
میں نے کہاں خدا پر بھروسا کرنے کے بجائے اپنے زور پر انحصار کیا؟
یہ سوالات انسان کو مجرم ٹھہرانے کے لیے نہیں بلکہ خدا کے فضل کی طرف واپس لانے کے لیے ہیں۔ جو شخص اپنے دل کو خدا کے نور میں دیکھنا سیکھ لیتا ہے، وہ حقیقی روحانی ترقی کے راستے پر آ جاتا ہے۔
دن بھر خدا کی حضوری کو یاد رکھیں
Remember God's presence throughout the day.
روحانی زندگی صرف صبح کی عبادت تک محدود نہیں
Spiritual life is not limited to morning worship.
بعض لوگ صبح دعا اور بائبل کا وقت تو رکھتے ہیں، مگر پھر پورا دن خدا سے عملی طور پر کٹا ہوا گزرتا ہے۔ خدا کے قریب آنا صرف ایک مقررہ مذہبی وقت پورا کر لینے سے حاصل نہیں ہوتا۔ اس کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انسان دن بھر خدا کی حضوری کو یاد رکھنا سیکھے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہر وقت رسمی دعا میں مشغول رہے، بلکہ یہ کہ اس کا دل خدا کی طرف متوجہ رہے۔ کام کرتے ہوئے، چلتے پھرتے، مشکل گفتگو سے پہلے، فیصلہ کرتے وقت، خوف کے لمحے میں، اور خوشی کے وقت بھی دل میں خدا کو یاد کیا جا سکتا ہے۔
چھوٹی چھوٹی روحانی عادتیں
آپ مختصر دعائیں اپنا سکتے ہیں، جیسے:
اے خداوند، مجھے حکمت دے۔
اے باپ، میرے دل کو سنبھال۔
اے خدا، مجھے محبت میں چلنا سکھا۔
یسوع، میری مدد فرما۔
یہ مختصر روحانی وقفے دل کو خدا سے جڑے رہنے میں مدد دیتے ہیں۔ یوں خدا محض عبادت کا موضوع نہیں رہتا بلکہ روزمرہ زندگی کی حقیقت بننے لگتا ہے۔
فرمانبرداری کو قربت کا لازمی حصہ سمجھیں
Consider obedience an essential part of intimacy.
صرف جاننا کافی نہیں، عمل بھی ضروری ہے
Just knowing is not enough, action is also necessary.
خدا کے قریب آنا صرف دعا کرنا اور بائبل پڑھنا نہیں، بلکہ خدا کی سنی ہوئی بات پر عمل کرنا بھی ہے۔ مسیحی روحانیت میں فرمانبرداری محض اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ محبت کا اظہار ہے۔ اگر کوئی شخص خدا کی بات سنتا تو ہے مگر اس پر چلتا نہیں، تو اس کی روحانی زندگی میں تضاد پیدا ہو جاتا ہے۔
بعض اوقات لوگ زیادہ روحانی احساسات کے پیچھے ہوتے ہیں، مگر خدا پہلے سے واضح باتوں پر عمل نہیں کرتے۔ اگر خدا نے معاف کرنے کو کہا ہے، سچ بولنے کو کہا ہے، پاکیزگی میں چلنے کو کہا ہے، عاجزی اختیار کرنے کو کہا ہے، تو قربت کا راستہ انہی عملی قدموں سے گزرتا ہے۔
چھوٹے فیصلے بھی اہم ہیں
Small decisions are important too
خدا کی فرمانبرداری ہمیشہ بڑے موقعوں پر ہی ظاہر نہیں ہوتی۔ اکثر یہ چھوٹے، روزمرہ فیصلوں میں سامنے آتی ہے۔ زبان کو قابو میں رکھنا، دوسروں کے ساتھ دیانت داری برتنا، دل میں کینہ نہ پالنا، ضرورت مند کی مدد کرنا، اور اپنی آنکھوں اور خیالات کی حفاظت کرنا، یہ سب خدا کے قریب آنے کے عملی پہلو ہیں۔
جو شخص چھوٹی باتوں میں خدا کے ساتھ وفادار رہتا ہے، وہ رفتہ رفتہ اس قربت میں مضبوط ہوتا جاتا ہے۔
شکرگزاری کی عادت پیدا کریں
Create a habit of gratitude.
شکرگزار دل خدا کے قریب رہتا ہے
A grateful heart stays close to God.
ناشکری انسان کے دل کو سخت کرتی ہے، جبکہ شکرگزاری اسے نرم اور خدا کی طرف مائل بناتی ہے۔ جب انسان صرف اپنی کمیوں، ناکامیوں، یا ادھوری خواہشوں پر توجہ دیتا ہے تو اس کا دل بھاری اور شکایت سے بھر جاتا ہے۔ مگر جب وہ خدا کے فضل کو دیکھنا شروع کرتا ہے تو اس کے اندر عبادت کا مزاج پیدا ہوتا ہے۔
خدا کے قریب آنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم صرف درخواست کرنے والے نہ ہوں بلکہ شکر ادا کرنے والے بھی بنیں۔ شکرگزاری ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ خدا پہلے ہی بہت کچھ عطا کر چکا ہے۔ نجات، زندگی، سانس، معافی، روزی، رفاقت، اور امید، یہ سب خدا کے فضل کی نشانیاں ہیں۔
روزانہ شکرگزاری کی مشق
Daily gratitude practice
آپ روزانہ تین ایسی باتیں لکھ سکتے ہیں جن کے لیے آپ خدا کا شکر ادا کرتے ہیں۔ ابتدا میں یہ عمل معمولی محسوس ہو سکتا ہے، مگر آہستہ آہستہ یہ دل کے زاویے کو بدل دیتا ہے۔ انسان خدا کی حضوری اور اس کی وفاداری کو زیادہ واضح طور پر محسوس کرنے لگتا ہے۔
مسیحی رفاقت اور کلیسیا سے جڑے رہیں
Stay connected to Christian fellowship and the church.
خدا کی قربت صرف انفرادی تجربہ نہیں
God's closeness is not just an individual experience.
اگرچہ خدا کے ساتھ تعلق شخصی ہے، مگر یہ کبھی مکمل طور پر تنہا نہیں ہوتا۔ مسیحی ایمان میں خدا اپنے لوگوں کو جماعت کی صورت میں بھی سنوارتا ہے۔ کلیسیا، ایمانداروں کی رفاقت، مشترکہ دعا، اور روحانی رہنمائی خدا کے قریب آنے کے اہم ذرائع ہیں۔
تنہا چلنے والا انسان اکثر یا تو غرور کا شکار ہوتا ہے یا تھکن کا۔ اسے نہ اصلاح ملتی ہے، نہ حوصلہ، نہ جواب دہی۔ اس کے برعکس، جب ایک ایماندار رفاقت میں جیتا ہے تو اس کی کمزوریاں بھی سامنے آتی ہیں اور اسے سنبھالنے والے لوگ بھی ملتے ہیں۔
رفاقت کا عملی فائدہ
Practical benefit of fellowship
کلیسیا صرف اتوار کی حاضری کا نام نہیں۔ یہ ایک ایسا روحانی ماحول ہونا چاہیے جہاں انسان سکھایا جائے، سنبھالا جائے، اس کے لیے دعا کی جائے، اور وہ دوسروں کی خدمت بھی کرے۔ جو شخص مسیح کے بدن سے جڑا رہتا ہے، وہ اکثر روحانی طور پر زیادہ متوازن اور مضبوط رہتا ہے۔
دنیاوی شور سے نکل کر خاموشی اور تنہائی میں خدا کو ڈھونڈیں
Escape from the noise of the world and seek God in silence and solitude.
خاموشی روحانی سننے کی جگہ بن سکتی ہے
Silence can become a place for spiritual listening.
آج کا انسان مسلسل شور میں جیتا ہے۔ موبائل، سوشل میڈیا، خبریں، گفتگو، اور مصروفیت ذہن کو اتنا بھر دیتے ہیں کہ دل میں خاموشی کے لیے جگہ کم رہ جاتی ہے۔ خدا ہمیشہ شور میں نہیں بولتا۔ کئی بار وہ خاموشی میں دل کو چھوتا ہے، سوچ کو روکتا ہے، اور انسان کو اپنی کمزوری دکھاتا ہے۔
خدا کے قریب آنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان جان بوجھ کر ایسے اوقات پیدا کرے جہاں وہ صرف خدا کے حضور ٹھہرے۔ یہ خاموشی فرار نہیں بلکہ توجہ کی بحالی ہے۔
خاموش وقت کیوں ضروری ہے؟
Why is quiet time important?
خاموشی میں انسان خود کو بہتر دیکھتا ہے۔ اسے اپنی بےچینی، خوف، خواہشات، اور اصل روحانی حالت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اسی جگہ وہ خدا کے ساتھ حقیقی دیانت داری میں داخل ہو سکتا ہے۔ چند منٹ کی سنجیدہ خاموشی بعض اوقات بہت طویل دعاؤں سے زیادہ اثر رکھتی ہے، اگر اس میں دل واقعی خدا کی طرف متوجہ ہو۔
دوسروں سے محبت اور خدمت کے ذریعے خدا کے قریب آئیں
Draw closer to God through love and service to others.
روحانی قربت صرف اندرونی کیفیت نہیں
Spiritual intimacy is not just an internal state.
کبھی کبھی لوگ خدا کے قریب آنے کو صرف اندرونی روحانی احساس تک محدود کر دیتے ہیں، جبکہ مسیحی تعلیم میں محبت اور خدمت اس قربت کی نمایاں علامتیں ہیں۔ جو شخص خدا سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے مگر دوسروں کے ساتھ بےرحمی، غرور، یا خودغرضی سے پیش آتا ہے، اس کی روحانیت ادھوری ہے۔
خدا کے قریب آنے کا ایک عملی طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے گرد موجود لوگوں کے ساتھ مسیح جیسا رویہ اختیار کریں۔ خاندان میں صبر، غریب کے لیے رحم، کمزور کے لیے مدد، اور مخالف کے لیے بھی دعا، یہ سب خدا کی قربت کے زندہ ثبوت ہیں۔
خدمت دل کو نرم کرتی ہے
Service softens the heart.
جب انسان صرف اپنے بارے میں سوچتا ہے تو اس کا دل تنگ ہو جاتا ہے۔ لیکن جب وہ دوسروں کی خدمت کرتا ہے تو اس کا دل خدا کے دل کے قریب آنے لگتا ہے۔ خدمت ہمیں عاجزی سکھاتی ہے، خودمرکزی سوچ کو توڑتی ہے، اور محبت کو عملی شکل دیتی ہے۔
مستقل مزاجی رکھیں، صرف جذبات پر نہ چلیں
Be consistent, don't just go by emotions.
روحانی ترقی آہستہ آہستہ ہوتی ہے
Spiritual development happens slowly.
بہت سے لوگ خدا کے قریب آنا چاہتے ہیں، مگر ان کی روحانی زندگی جذبات پر منحصر ہوتی ہے۔ جب دل چاہا تو دعا کی، جب ماحول اچھا لگا تو بائبل پڑھی، جب کیفیت بنی تو عبادت کی۔ یہ انداز دیرپا روحانی پختگی پیدا نہیں کرتا۔
خدا کے قریب آنا اکثر ایک خاموش، مسلسل، اور معمولی دکھائی دینے والے سفر سے ممکن ہوتا ہے۔ روزانہ تھوڑا وقت، چھوٹے مگر مستقل قدم، اور وفاداری کے ساتھ چلنا، یہی اصل راہ ہے۔ ہر دن غیر معمولی محسوس نہیں ہوگا، مگر مستقل مزاجی آہستہ آہستہ گہرائی پیدا کرتی ہے۔
جب کچھ محسوس نہ ہو تب بھی قائم رہیں
Stay strong even when you don't feel anything.
ایسے دن بھی آئیں گے جب دعا خشک محسوس ہوگی، بائبل پڑھنے میں دل کم لگے گا، اور خدا کی قربت کا احساس کم ہوگا۔ ایسے اوقات میں بہت سے لوگ رک جاتے ہیں۔ مگر پختہ روحانی زندگی کا راز یہی ہے کہ انسان احساسات کے اتار چڑھاؤ کے باوجود خدا کو ڈھونڈنا جاری رکھے۔ خدا صرف جذباتی لمحوں میں موجود نہیں ہوتا۔ وہ خاموش دنوں میں بھی وفادار رہتا ہے۔
نتیجہ
Conclusion
روزانہ خدا کے قریب آنا کسی ایک بڑے راز کا نتیجہ نہیں بلکہ کئی چھوٹی مگر وفادار روحانی عادتوں کا پھل ہے۔ دعا، بائبل، توبہ، شکرگزاری، فرمانبرداری، خاموشی، رفاقت، اور خدمت، یہ سب مل کر انسان کو اس راستے پر آگے بڑھاتے ہیں۔ یہ سفر کامل لوگوں کے لیے نہیں بلکہ ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنی ضرورت کو پہچانتے ہیں اور خدا کے فضل کے محتاج ہیں۔
مسیحی زندگی کی خوبصورتی یہی ہے کہ خدا دور نہیں کھڑا۔ وہ اپنے لوگوں کو بلاتا ہے، ان کا انتظار کرتا ہے، انہیں سنبھالتا ہے، اور یسوع مسیح کے وسیلے سے اپنے حضور آنے کی راہ کھولتا ہے۔ اگر آپ واقعی خدا کے قریب آنا چاہتے ہیں تو بڑی شروعات کی ضرورت نہیں۔ ایک سچا دل، ایک عاجز دعا، اور ایک وفادار قدم کافی ہے۔ پھر خدا خود آپ کو آگے بڑھاتا ہے۔
خدا کے قریب آنا روزانہ کا فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ ہر صبح نیا کرنا پڑتا ہے۔ اور جو شخص اس راہ پر چلتا رہتا ہے، وہ آہستہ آہستہ یہ جان لیتا ہے کہ خدا کی قربت محض ایک مذہبی تصور نہیں، بلکہ زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔
خداوند آپ کو بہت برکت دے!
مسیح میں آ پ کا بھائی !
آصف مسیح گل